صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في أحوال الميت في قبره - ذكر الإخبار بأن البهائم تسمع أصوات من عذب في قبره من الناس باب: قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس بات کی اطلاع کہ جانور ان لوگوں کی آوازیں سنتے ہیں جو اپنی قبر میں عذاب دیے جا رہے ہیں
حدیث نمبر: 3125
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ ، فِيهِ قُبُورٌ مِنْهُمْ ، وَهُوَ يَقُولُ : " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلِلْقَبْرِ عَذَابٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَإِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ " .سیده ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے میں اس وقت بنو نجار کے ایک باغ میں تھی جس میں ان کی کچھ قبریں تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا قبر میں عذاب ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ان لوگوں کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے، جسے جانور بھی سنتے ہیں۔