صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في أحوال الميت في قبره - ذكر الإخبار بأن الناس يسألون في قبورهم وعقولهم ثابتة معهم لا أنهم يسألون وعقولهم ترغب عنهم باب: قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس بات کی اطلاع کہ لوگ اپنی قبروں میں سوال کیے جاتے ہیں اور ان کی عقلیں ان کے ساتھ ثابت رہتی ہیں، نہ کہ ان کی عقلیں ان سے ہٹ جاتی ہیں
حدیث نمبر: 3115
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَكَرَ فَتَّانَيِ الْقَبْرِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَتُرَدُّ عَلَيْنَا عُقُولُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، كَهَيْئَتِكُمُ الْيَوْمَ " ، قَالَ : فَبِفِيهِ الْحَجَرُ .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کی آزمائش کا ذکر کیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہماری عقول ہمیں لوٹائی جائیں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں جس طرح تم لوگ آج ہو، تو انہوں نے عرض کی: اس کے منہ پر پابندی ہے۔