صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في الصلاة على الجنازة باب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان -
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ دِينَارَيْنِ ، قَالَ : " تَرَكَ لَهُمَا وَفَاءً ؟ " قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : هُمَا إِلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنازہ لایا گیا، تاکہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اس کے ذمے قرض ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں دو دینار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ان دونوں کی ادائیگی میرے ذمے ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔