حدیث نمبر: 3058
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ دِينَارَيْنِ ، قَالَ : " تَرَكَ لَهُمَا وَفَاءً ؟ " قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : هُمَا إِلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنازہ لایا گیا، تاکہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اس کے ذمے قرض ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں دو دینار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ان دونوں کی ادائیگی میرے ذمے ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3058
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 111). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو وهو ابن علقمة الليثي فإن حديثه لا يرتقي إلى الصحة
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3047»