صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في الصلاة على الجنازة باب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان -
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا دُعِيَ إِلَى جَنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا ، فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا قَامَ فَصَلَّى ، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا قَالَ لأَهْلِهَا : " شَأْنُكُمْ بِهَا " ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : تَرْكُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ وَصَفْنَا نَعَتَهُ ، كَانَ ذَلِكَ قَصْدَ التَّأْدِيبِ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُمَّتِهِ ، كَيْلا يَرْتَكِبُوا مِثْلَ ذَلِكَ الْفِعْلِ ، لا أَنَّ الصَّلاةَ غَيْرُ جَائِزَةٍ عَلَى مَنْ أَتَى مِثْلَ مَا أَتَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی جنازے (کی نماز پڑھنے کے لیے) بلایا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے، اگر اس کی اچھی تعریف بیان کی جاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے اور اگر اس کی برائی بیان کی جاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر والوں سے کہتے تھے: اسے تم خود سنبھال لو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی جس کی صفت ہم نے ذکر کی ہے۔ اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ آپ اپنی اُمت کو اس حوالے سے ادب سکھائیں تاکہ وہ اس فعل کے ارتکاب سے بچیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے: ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہی نہیں ہوتا جس میں وہ خاصیت پائی جاتی ہو جس خامی کے حامل فرد کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی۔