صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في حمل الجنازة وقولها - ذكر الأمر بالإسراع في السير بالجنائز لعلة معلومة باب: فصل: جنازے کو اٹھانے اور اس کے کلام کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جنازوں کے ساتھ تیزی سے چلنا چاہیے ایک معلوم وجہ کی بنا پر
حدیث نمبر: 3042
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ ، فَإِنْ تَكُ خَيْرًا تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ ، وَإِنَّ تَكُ شَرًّا تَضَعُونَهَا عَنْ رِقَابِكُمْ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ ” اپنے جنازوں کو تیزی سے (قبرستان) لے جاؤ، کیونکہ اگر وہ نیک ہوں گے، تو تم انہیں بھلائی کی طرف لے کر جاؤ گے اور اگر وہ برے ہوں گے، تو تم اس برائی کو اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔ “