صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في حمل الجنازة وقولها باب: فصل: جنازے کو اٹھانے اور اس کے کلام کا بیان -
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَعِيَادَةِ الْمَرْضَى ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ ، وَنُصْرَةِ الْمَظْلُومِ ، وَإِفْشَاءِ السَّلامِ ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَعِيَادَةِ الْمَرْضَى ، أَمْرٌ لِطَلَبِ الثَّوَابِ دُونَ أَنْ يَكُونَ حَتْمًا ، وَالأَمْرُ بِتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ ، لَفْظٌ عَامٌ مُرَادُهُمَا الْخُصُوصُ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْعَاطِسَ لا يَجِبُ أَنْ يُشَمَّتَ إِلا إِذَا حَمِدَ اللَّهَ ، وَإِبْرَارُ الْمُقْسِمِ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ دُونَ الْكُلِّ ، وَالأَمْرُ بِنُصْرَةِ الْمَظْلُومِ ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي أَمْرَا حَتْمٍ فِي الْوَقْتِ دُونَ الْوَقْتِ ، وَالأَمْرِ بِإِفْشَاءِ السَّلامِ أَمْرٌ بِلَفْظِ الْعُمُومِ ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ اسْتِعْمَالُهُ مَعَ الْمُسْلِمِينَ دُونَ غَيْرِهِمْ .سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے، بیمار کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کو جواب دینے، قسم اٹھانے والی کی قسم پوری کروانے، مظلوم کی مدد کرنے، سلام کو پھیلانے اور دعوت قبول کرنے کا حکم دیا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جنازے کے ساتھ جانے، بیمار کی عیادت کرنے کا حکم ثواب طلب کرنے کے لیے ہے۔ یہ لازمی حکم نہیں ہے جبکہ چھینکنے والے کو جواب دینے اور قسم پوری کروانے کا حکم اس کے الفاظ عام ہیں لیکن اس کی مراد مخصوص ہے۔ اور وہ یوں کہ چھینکنے والے کو جواب دینا اسی وقت لازم ہوتا ہے جب وہ اللہ کی حمد بیان کرے اور قسم پوری کروانا بعض صورتوں میں لازم ہوتا ہے۔ ہر صورت میں لازم نہیں ہوتا جبکہ مظلوم کی مدد کرنا اور دعوت کو قبول کرنا یہ ایسا حکم ہے، جو کسی وقت میں لازم ہوتا ہے اور کسی وقت میں لازم نہیں ہوتا جبکہ سلام کو پھیلانے کا حکم لفظی طور پر عام ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ مسلمانوں کے علاوہ (غیر مسلموں کے ساتھ) ایسا نہ کیا جائے۔