صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في حمل الجنازة وقولها باب: فصل: جنازے کو اٹھانے اور اس کے کلام کا بیان -
حدیث نمبر: 3038
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ : قَدِّمُونِي ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ : يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا ، يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلا الإِنْسَانَ ، وَلَوْ سَمِعَهَا الإِنْسَانُ لَصَعِقَ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب جنازہ (چار پائی پر) رکھ دیا جائے اور لوگ اسے گردن (یعنی کندھوں پر) اٹھا لیں، تو اگر وہ (مرحوم) نیک ہو، تو وہ یہ کہتا ہے: تم مجھے آگے لے جاؤ اور اگر وہ نیک نہ ہو، تو وہ یہ کہتا ہے: ہائے! افسوس یہ لوگ اسے کہاں لے جا رہے ہیں؟ اس کی آواز کو انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور اگر انسان اسے سن لے، تو بے ہوش ہو کر گر جائے۔ “