صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في الغسل - ذكر البيان بأن أم عطية إنما مشطت قرونها بأمر المصطفى صلى الله عليه وسلم لا من تلقاء نفسها باب: فصل: غسل کا بیان - اس بات کا بیان کہ ام عطیہ نے اس کے بالوں کی چوٹیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بنائیں، نہ کہ اپنی مرضی سے
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کا انتقال ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا، اگر تم مناسب سمجھو، تو اس سے زیادہ مرتبہ غسل دینا اور آخر میں کچھ کافور بھی ملا دینا جب تم فارغ ہو جاؤ، تو مجھے اطلاع دینا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ہمیں دی اور ارشاد فرمایا: یہ اس کے جسم پر لپیٹ دو۔ ایوب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے حفصہ نامی راوی خاتون نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ” تم اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبه غسل دینا اور اس کی تین چوٹیاں بنا دینا۔ “