حدیث نمبر: 3032
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ ، فَقَالَ : " اغْسِلْنَهَا ثَلاثًا ، أَوْ خَمْسًا ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا ، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " ، قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغْنَا ، آذَنَّاهُ ، قَالَتْ : فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ ، وَقَالَ : " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " . قَالَ : وَقَالَتْ قَالَ : وَقَالَتْ حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ : اغْسِلْنَهَا مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلاثًا ، أَوْ خَمْسًا ، أَوْ سَبْعًا ، قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ : وَمَشَطْتُهَا ثَلاثَةَ قُرُونٍ ، وَكَانَ فِيهِ أَنَّهُ قَالَ : " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِغُسْلِ الْمَيِّتِ فَرْضٌ ، وَالشَّرْطُ الَّذِي قُرِنَ بِهِ هُوَ الْعَدَدُ الْمَذْكُورُ فِي الْخَبَرِ قُصِدَ بِتَعْيِينِهِ النَّدْبُ لا الْحَتْمُ . أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اغْسِلْنَهَا بِالْمَاءِ ، وَالسِّدْرِ ثَلاثًا ، أَوْ خَمْسًا ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنَّ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ ، وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِهِنَّ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " ، فَآذَنَّاهُ ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ ، وَقَالَ : " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " ، قَالَ أَيُّوبُ ، وَقَالَتْ حَفْصَةُ : " اغْسِلْنَهَا ثَلاثًا ، أَوْ خَمْسًا ، أَوْ سَبْعًا ، وَاجْعَلْنَ لَهَا ثَلاثَةَ قُرُونٍ " .

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دینے لگی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے پانی اور بیری کے ساتھ تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ، اگر تم مناسب سمجھو، غسل دینا اور آخر میں کافور بھی شامل کر لینا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کچھ کافور شامل کر لینا جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ، تو تم مجھے اطلاع دے دینا۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب ہم فارغ ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ہمیں دی اور فرمایا: یہ اس کے جسم پر لپیٹ دو۔ حفصہ نامی خاتون نے سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: تم اسے دو مرتبہ یا تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ غسل دینا۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اس صاحبزادی کی تین چٹیا بنا دیں۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا: ” تم اس کے دائیں طرف کے اعضاء اور وضو کے مقامات سے (غسل کا آغاز کرنا) “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) میت کو غسل دینے کا حکم فرض ہے اور وہ شرط جو اس کے ہمراہ ذکر کی گئی ہے۔ یعنی اس روایت میں مذکور عدد کو متعین طور پر ذکر کرنے سے مقصود استحباب کا بیان ہے۔ یہ لازم نہیں ہے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3032
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الأحكام» (65)، «الإرواء» (1/ 164 / 119): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3021»