صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر الإخبار بإيجاب الله جل وعلا للميت ما أثنى عليه الناس من خير أو شر باب: فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ اللہ جل وعلا میت کے لیے وہی لازم کرتا ہے جو لوگ اس کے بارے میں خیر یا شر کی بات کرتے ہیں
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " ، وَمَرُّوا بِأُخْرَى ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ : " مَرُّوا بِتِلْكَ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَوَجَبَتِ النَّارُ ، وَمَرُّوا بِهَذِهِ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَوَجَبَتِ الْجَنَّةُ ، وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگ ایک جنازہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے، تو اس کی برائی بیان کی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: واجب ہو گئی پھر لوگ دوسرا جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: واجب ہو گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا چیز واجب ہو گئی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ اسے لے کر گزرے اور انہوں نے اس کی برائی بیان کی، تو جہنم واجب ہو گئی یہ لوگ اسے لے کر گزرے اور انہوں نے اس کی تعریف بیان کی، تو جنت واجب ہو گئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔