صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
فصل في تمني الموت - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن تمني الموت والدعاء به باب: موت کی تمنا کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر موت کی خواہش اور اس کی دعا سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 3000
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ، إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ خَيْرًا ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تم میں سے کوئی بھی شخص موت کی آرزو ہرگز نہ کرے، کیونکہ اگر وہ نیک ہو گا، تو ہو سکتا ہے اس کی بھلائی میں اضافہ ہو اور اگر وہ گنہگار ہو گا، تو ہو سکتا ہے وہ توبہ کر لے۔ “