صحیح ابن حبان
المقدمة— مقدمہ کا بیان
باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا- باب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان -
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثَنِي الِلَّهِ بِهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمَهُ ، فَقَالَ : يَا قَوْمِ ، إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ ، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ ، فَانْطَلَقُوا عَلَى مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا ، وَكَذَّبَهُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ ، فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ وَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتاحَهُمْ ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي ، وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ " .سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بے شک میری مثال اور جس چیز کے ہمراہاللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے، اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو اپنی قوم کے پاس آتا ہے، اور یہ کہتا ہے: اے میری قوم! میں نے ایک لشکر دیکھا ہے، اور میں ڈرانے والا ہوں (یعنی تم لوگوں کو خبردار کر رہا ہوں)، تو اس کی قوم کا ایک گروہ اس کی اطاعت کر لیتا ہے، اور وہ لوگ اس دوران چپکے سے چلے جاتے ہیں اور نجات پا لیتے ہیں، جبکہ ایک گروہ اس کی تکذیب کرتا ہے۔ وہ لوگ اپنی جگہ رہتے ہیں اور صبح کے وقت دشمن ان پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیتا ہے، اور انہیں تباہ و برباد کر دیتا ہے، تو یہ اس شخص کی مثال ہے، جو میری اطاعت کرتا ہے، اور جو میں لے کہ آیا ہوں اس کی پیروی کرتا ہے، اور اس شخص کی مثال ہے، جو میری نافرمانی کرتا ہے، اور میں جس حق کو لے کہ آیا ہوں، وہ اسے جھٹلاتا ہے ۔“