صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب المريض وما يتعلق به - ذكر الشيء الذي إذا دعا المرء به العليل عوفي من علته تلك إذا كان ذلك بعدد معلوم باب: مریض اور اس سے متعلق احکام - اس چیز کا ذکر جو اگر آدمی بیمار کے لیے دعا کرے تو وہ اس کی بیماری سے شفا پا جاتا ہے اگر یہ معلوم تعداد کے ساتھ ہو
حدیث نمبر: 2978
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَادَ الْمَرِيضَ جَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ سَبْعَ مَرَّاتٍ : " أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، أَنْ يَشْفِيَكَ " ، فَإِنْ كَانَ فِي أَجَلِهِ تَأْخِيرٌ عُوفِيَ مِنْ وَجَعِهِ ذَلِكَ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو اس کے سرہانے تشریف فرما ہوتے اور پھر سات مرتبہ یہ پڑھتے تھے۔ ” میں عظیماللہ تعالیٰ سے، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے، یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا کرے۔ “ تو اگر اس کا آخری وقت قریب آنے میں تاخیر ہوتی، تو اسے اس بیماری سے عافیت نصیب ہو جاتی تھی۔