صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الزجر عن القدوم على البلد الذي وقع فيه الطاعون والخروج منه من أجله باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اس شہر میں جائے جہاں طاعون پھیلا ہو یا وہاں سے اس کی وجہ سے نکلے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، أَوْ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلا تَقْدُمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ ، وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " .عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ انہوں نے اپنے والد کو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے یہ دریافت کرتے ہوئے سنا کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی طاعون کے بارے میں کوئی بات سنی ہے، تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: طاعون ایک خرابی ہے، جو بنی اسرائیل کی طرف (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم سے پہلے لوگوں کی طرف بھیجی گئی تھی، تو جب تم کسی سرزمین کے بارے میں سنو کہ وہاں یہ ہے، تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ کسی ایسی سرزمین پر واقع ہو جائے جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلو نہیں۔