صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الإخبار بأن الوباء هو موت الصالحين قبلنا ورحمة الله جل وعلا على خلقه باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ وباء ہم سے پہلے صالحین کی موت اور اللہ جل وعلا کی اپنی مخلوق پر رحمت ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شُفْعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ ، فَقَالَ : إِنَّهُ رِجْزٌ ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ ، فَقَالَ شُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ ، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ ، أَوْ جَمَلِ أَهْلِهِ ، وَقَالَ : " إِنَّهَا رَحْمَةٌ رَبِّكُمْ ، وَدَعْوَةٌ نَبِيِّكُمْ ، وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، فَاجْتَمِعُوا لَهُ وَلا تَفَرَّقُوا عَنْهُ " ، فَسَمِعَ ذَلِكَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ : صَدَقَ .سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے: ایک مرتبہ شام میں طاعون کی وباء پھیل گئی، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ گندگی ہے، تو لوگ اس جگہ سے منتقل ہونے لگے، تو سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں اور عمرو اپنے گھر کے گدھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: یہ تمہارے پروردگار کی رحمت، تمہارے نبی کی دعا اور تم سے پہلے نیک لوگوں کی موت کا ذریعہ ہے، تو تم لوگ اس کے لیے اکٹھے رہو اور اسے چھوڑ کر منتشر نہ ہو۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی، تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا: ہے۔