صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر إيجاب الجنة لمن مات له ابنتان فاحتسب في ذلك باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جنت اس کے لیے واجب ہوتی ہے جس کی دو بیٹیاں مر جائیں اور وہ اس پر صبر کرے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَصْفهَانِيِّ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ النِّسَاءُ : غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا ، فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا ، فَجِئْنَ ، فَوَعَظَهُنَّ ، فَقَالَ لَهُنَّ فِيمَا قَالَ : " مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلاثَةً مِنْ وَلَدِهَا إِلا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ " ، قَالَتِ امْرَأَةٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاثْنَيْنِ ؟ وَقَدْ مَاتَ لَهَا اثْنَانِ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاثْنَانِ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: خواتین نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! مرد ہم سے آگے نکل گئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بھی کوئی دن مقرر کیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک دن کا وعدہ کر لیا وہ خواتین حاضر ہوئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ و نصیحت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جو بات ارشاد فرمائی اس میں یہ بات بھی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بھی عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں، تو وہ اس عورت کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر دو ہوں (راوی کہتے ہیں) اس عورت کے دو بچے فوت ہو چکے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اگر دو ہوں (تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا)