صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر البيان بأن الجنة إنما تجب لمن وصفنا إذا احتسب في تلك المصيبة دون المتسخط فيما قضى الله باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ جنت اس کے لیے واجب ہوتی ہے جس کے ہم نے بیان کردہ بچوں کی مصیبت پر صبر کیا، نہ کہ اس کے لیے جو اللہ کے فیصلے سے ناراض ہو
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نِسْوَةَ مِنَ الأَنْصَارِ قُلْنَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيكَ مَعَ الرِّجَالِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلانَةَ " فَجَاءَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُنَّ ، ثُمَّ قَالَ : " لا يَمُوتُ لإِحْدَاكُنَّ ثَلاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبُهُ إِلا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ " فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : وَاثْنَتَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَاثْنَتَيْنِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ انصاری خواتین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی ہم مردوں کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتی ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں واعظ و نصیحت کیا کیجئے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں خاتون کے گھر میں تم سے ملاقات ہو گی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے ساتھ بات چیت کرتے رہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی کے بھی تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ اس پر ثواب کی امید رکھے تو وہ جنت میں داخل ہو گی ان میں سے ایک خاتون نے عرض کی: جس کے دو ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے دو (بچے فوت) ہوں؟ (اسے بھی یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا)