صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الاستتار من النار نعوذ بالله منها للمسلم إذا ابتلي بالبنات فأحسن صحبتهن باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو مسلمان بیٹیوں کی آزمائش سے گزرتا ہے اور ان کی اچھی صحبت کرتا ہے، وہ آگ سے محفوظ رہتا ہے، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَيْهَا امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْتَطْعِمُ ، قَالَتْ : فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي إِلا تَمْرَةً وَاحِدَةً ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا ، فَأَخَذَتْهَا ، فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ، قَالَتْ : ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ ، وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون ان کے ہاں آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں اس عورت نے کھانے کے لیے کچھ مانگا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرے پاس اسے صرف ایک کھجور ملی وہ میں نے اسے دے دی اس نے اس کھجور کو لیا اور اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی بیٹیوں کو دے دیا اس نے خود کچھ نہیں کھایا پھر وہ اٹھی اور چلی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے میں نے آپ کو اس عورت کے بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو ان بیٹیوں کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کیا جائے اور وہ شخص ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے، تو یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔