صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر البيان بأن الله جل وعلا قد يجازي المسلم على سيئاته في الدنيا بالأمراض والأحزان لتكون كفارة لها باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا اپنے بندے کے گناہوں کی سزا دنیا میں بیماریوں اور غموں کے ذریعے دے سکتا ہے تاکہ وہ ان کا کفارہ بن جائیں
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ الصَّلاحُ بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 ، فَقَالَ : " رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَسْتَ تَمْرَضُ ؟ أَلَسْتَ تَنْصَبُ ؟ أَلَسْتَ يُصِيبُكَ اللأْوَاءُ ؟ فَذَاكَ مَا تُجْزَوْنَ بِهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ هَذَا أَبُوهُ مِنَ الصَّحَابَةِ .سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس آیت کے بعد بہتری کیسے ہو سکتی ہے؟ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” جو شخص برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دے دیا جائے گا۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر!اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے ہو؟ کیا تمہیں تکلیف لاحق نہیں ہوتی ہے؟ کیا تمہیں پریشانیاں لاحق نہیں ہوتی ہیں؟ یہ وہ چیز ہے، جس کا تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوبکر بن ابوزہیر نامی راوی کے والد صحابی ہیں۔