صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر البيان بأن الصالحين قد تشدد عليهم البلايا لم يفعل ذلك بغيرهم باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ صالحین پر بلائیں سخت کی گئیں، جو دوسروں کے ساتھ نہیں کیا گیا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلابَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نَسِيبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصَّالِحِينَ قَدْ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ ، وَإِنَّهُ لا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلا حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ، وَرُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ وَاهِمٌ فِي قَوْلِهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَسِيبٍ ، إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ نَسِيبُ بْنُ سِيرِينَ ، فَسَقَطَ عَلَيْهِ الْحَارِثُ فَقَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَسِيبٍ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف لاحق ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہوتے تھے اور اپنے بستر پر پہلو بدلتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی اگر یہ ہم میں سے کسی نے کیا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نیک لوگوں پر شدت لاحق ہوتی ہے مومن شخص کو جو کانٹا بھی لگتا ہے یہ اس کے علاوہ جو تکلیف ہوتی ہے، تو اس کی وجہ سے اس کے گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے درجے کو بلند کیا جاتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عیسی بن ابوکثیر نے راوی کا نام عبداللہ بن نسیب نقل کرتے ہوئے غلطی کی ہے۔ اصل نام عبداللہ بن حارث ہے اور یہ ابن سیرین کے بھانجے ہیں تو لفظ حارث وہ نقل نہیں کر سکے اور انہوں نے لفظ عبداللہ بن نسیب ذکر کر دیا۔