صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الخبر الدال على أن ألفاظ الوعد التي ذكرناها لمن به المحن والبلايا إنما هي لمن حمد الله فيها دون من سخط حكمه باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے بیان کردہ وعدوں کے الفاظ اس کے لیے ہیں جو آزمائشوں اور بلاؤں میں اللہ کی حمد کرے، نہ کہ اس کے لیے جو اس کے فیصلے سے ناراض ہو
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يُكْثِرُ أَنْ يُحَدِّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَضَرَتْهَا الْوَفَاةُ ، فَأَخَذَهَا فَجَعَلَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ احْتَضَنَهَا وَهِيَ تُنْزَعُ حَتَّى خَرَجَ نَفَسُهَا وَهُوَ يَبْكِي ، فَوَضَعَهَا فَصَاحَتْ أُمُّ أَيْمَنَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَبْكِي " فَقَالَتْ : أَلا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَبْكِي ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَبْكِ فَإِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ ، الْمُؤْمِنُ بِكُلِّ خَيْرٍ تَخْرُجُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنَ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے، وہ بکثرت یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا آخری وقت قریب آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لیا اور اپنے دونوں ہاتھوں میں رکھ لیا پھر آپ نے انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اس وقت ان پر نزع کا عالم طاری تھا، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رو رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صاحبزادی کو رکھا، تو سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے بلند آواز میں چیخ ماری۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نہ روؤ۔ انہوں نے عرض کی: کیا میں اللہ کے رسول کو روتے ہوئے نہیں دیکھ رہی ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرا رونا رحمت ہے مومن کی ہر صورت بہتر ہوتی ہے اس کے دونوں پہلوؤں سے جان نکلتی ہے، تو وہ اس وقت اللہ کی حمد بیان کر رہا ہوتا ہے۔