صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر البيان بأن تواتر البلايا على المسلم قد لا تبقي عليه سيئة يناقش عليها في العقبى باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ مسلسل بلاؤں کا آنا مسلمان پر اس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کے کوئی گناہ باقی نہ رہیں جن پر آخرت میں اس سے باز پرس ہو
حدیث نمبر: 2913
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَزَالُ الْبَلاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ ، وَمَالِهِ ، وَنَفْسِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” مومن مرد اور مومن عورت کے جسم، مال اور جان کے حوالے سے آزمائش درپیش رہتی ہے، یہاں تک کہ جب وہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے، تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ “