صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر تفضل الله على من امتحنه باللمم في الدنيا برفع الحساب عنه في العقبى إذا صبر على ذلك باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ اپنے فضل سے اس شخص پر جو دنیا میں معمولی گناہوں کی آزمائش سے گزرتا ہے اور اس پر صبر کرتا ہے، آخرت میں حساب ہٹاتا ہے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا لَمَمٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي ، قَالَ : " إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ لَكِ فَشَفَاكَ ، وَإِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِي وَلا حِسَابَ عَلَيْكِ " ، فَقَالَتْ : بَلْ أَصْبِرُ وَلا حِسَابَ عَلَيَّ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اسے مرگی کی شکایت تھی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپاللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے شفا عطا کرے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو میں تمہارے لیےاللہ تعالیٰ سے دعا کر دیتا ہوں وہ تمہیں شفا نصیب کر دے گا اور اگر تم چاہو، تو صبر سے کام لو، تو تم سے حساب نہیں لیا جائے گا۔ اس نے عرض کی: میں صبر سے کام لیتی ہوں، تاکہ مجھ سے حساب نہ لیا جائے۔