صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر ما يجب على المرء من ترك التسخط عند ورود ضد المراد في الحال عليه باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنی مراد کے خلاف ہونے پر ناراضگی ترک کرے
حدیث نمبر: 2893
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عن مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِي : " لَمْ فَعَلْتَ كَذَا وَلَمْ تَفْعَلْ كَذَا " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ آپ نے کبھی ” اف “ نہیں کہا: اور کبھی یہ نہیں فرمایا: یہ کیوں کیا ہے یہ کیوں نہیں کیا۔