صحیح ابن حبان
كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا— کتاب: جنازے اور اس سے متعلق امور کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من لزوم الرضا بالقضاء باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ قضاء پر راضی رہے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ عُبَيْدٍ سَنُوطَا ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ ، فَوَجَدَهُ حَارًّا ، فَقَالَ : " حَسِّ " ، وَقَالَ : " ابْنُ آدَمَ إِنَّ أَصَابَهُ بَرْدٌ قَالَ : حَسِّ ، وَإِنَّ أَصَابَهُ حَرٌّ قَالَ : حَسِّ " . ثُمَّ تَذَاكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الدُّنْيَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے میں نے آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔ آپ نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا آپ کو وہ گرم محسوس ہوا تو فرمایا: جس (یعنی ” اوئی “) آپ نے ارشاد فرمایا: اگر ابن آدم کو سردی لگتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے: جس (یعنی ” اوئی “) اگر اسے گرمی لگتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے۔ حس (” یعنی اوئی “) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب دنیا کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا سرسبز اور میٹھی ہے، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا۔ اس کے لیے اس میں برکت رکھی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو قیامت کے دن جہنم ملے گی۔