صحیح ابن حبان
المقدمة— مقدمہ کا بیان
باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم وإذا أمرتكم بشيء أراد به من أمور الدين لا من أمور الدنيا- باب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ نبی ﷺ کا فرمان «وإذا أمرتكم بشيء» امورِ دین کے بارے میں ہے، نہ کہ دنیاوی امور کے بارے میں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ أَصْوَاتًا ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الأَصْوَاتُ ؟ " ، قَالُوا : النَّخْلُ يَأْبِرُونَهُ ، فَقَالَ : " لَوْ لَمْ يَفْعَلُوا لَصَلُحَ ذَلِكَ " ، فَأَمْسَكُوا ، فَلَمْ يَأْبِرُوا عَامَّتَهُ ، فَصَارَ شِيصًا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ ، وَكَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں۔ آپ نے دریافت کیا: یہ کس بات کی آوازیں ہیں؟ لوگوں نے عرض کی: لوگ کھجوروں کی پیوند کاری کر رہے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ ایسا نہ کریں، تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔
(راوی کہتے ہیں) تو وہ لوگ اس عمل سے باز آ گئے۔ انہوں نے اس سال پیوندکاری نہیں کی تو پیداوار ٹھیک نہیں ہوئی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہارا کوئی دنیاوی معاملہ ہو، تو اسے تم خود سنبھالو اور اگر کوئی دینی معاملہ ہو، تو وہ میری طرف آئے گا۔