صحیح ابن حبان
المقدمة— مقدمہ کا بیان
باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر البيان بأن النواهي سبيلها الحتم والإيجاب إلا أن تقوم الدلالة على ندبيتها- باب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ نبی ﷺ کی ممانعتیں وجوب اور لازم ہونے کے درجہ میں ہیں، الا یہ کہ کوئی دلیل ان کے استحباب پر دلالت کرے۔
حدیث نمبر: 21
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هُمَامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ قَبْلُكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَنَهِيَتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ ، فَاجْتَنِبُوهُ ، وَأَمَرْتُكُمْ بِالشَّيْءِ ، فَأْتُوا مَنَهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس چیز کے بارے میں میں تمہیں چھوڑ دوں تم بھی مجھے ویسے ہی رہنے دو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے (غیرضروری) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے۔
جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں، تو تم اس سے اجتناب کرو اور جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں، تو جہاں تک تم سے ہو سکے تم اس پر عمل کرو۔