صحیح ابن حبان
المقدمة— مقدمہ کا بیان
باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر البيان بأن النواهي سبيلها الحتم والإيجاب إلا أن تقوم الدلالة على ندبيتها- باب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ نبی ﷺ کی ممانعتیں وجوب اور لازم ہونے کے درجہ میں ہیں، الا یہ کہ کوئی دلیل ان کے استحباب پر دلالت کرے۔
حدیث نمبر: 19
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلُكُمْ سُؤَالُهُمْ وَاخْتِلافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فإذا نَهِيَتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ ، فَاجْتَنِبُوهُ ، وَأَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ ، فَأْتُوا مَنَهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ " .سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بے شک تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے، تو جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں، تو تم اس سے اجتناب کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک تمہارے لئے ممکن ہو، تم اس پر عمل کرو ۔“