صحیح ابن حبان
المقدمة— مقدمہ کا بیان
باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر إثبات الفلاح لمن كانت شرته إلى سنة المصطفى صلى الله عليه وسلم- باب: سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص اپنی رغبت کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کی طرف موڑتا ہے وہی کامیاب ہے۔
حدیث نمبر: 11
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً ، وَإِنَّ لِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةً ، فَمَنْ كَانَتْ شِرَّتُهُ إِلَى سُنَّتِي فَقَدْ أَفْلَحَ ، وَمَنْ كَانَتْ شِرَّتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شک ہر عمل کی ایک رغبت ہوتی ہے، اور ہر رغبت کی ایک فترت ہوتی ہے، جس شخص کی رغبت میری سنت کی طرف ہو گی وہ کامیاب ہو گیا اور جس شخص کی رغبت اس کی بجائے کسی اور طرف ہو گی وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا ۔“