حدیث نمبر: 589
589/761 عن عدي بن أرطاة قال: كان الرجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إذا زكي قال: " اللهم لا تؤاخذني بما يقولون، واغفر لي ما لا يعلمون"(1).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عدی بن ارطاۃ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی آدمی کو پاک باز قرار دیا جاتا تو کہتا : اے اللہ ! یہ لوگ جو ( میرے بارے میں) کہتے ہیں اس کا مجھ سے مواخذہ نہ کرنا اور جو (میری کوتاہیاں یہ ) نہیں جانتے اس پر مجھے مغفرت عطا کرنا ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 589
تخریج حدیث (صحيح الإسناد)
حدیث نمبر: 590
590/762 عن أبي قلابة، أن أبا عبد الله قال لأبي مسعود- أو أبو مسعود قال لأبي عبد الله-: ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم في : "زعم"، قال: "بئس مطية الرجل".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابوقلابہ سے مروی ہے کہ ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا : یا ابومسعود نے ابوعبداللہ سے کہا : آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے «زعم» کے بارے میں کیا سنا ہے ۔ کہا : «زعم» کسی شخص کی بری سواری ہے (یعنی یہ جھوٹ ہے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 590
تخریج حدیث (صحيح)
حدیث نمبر: 591
591/763 قال أبو مسعود : وسمعته يول: "لعن المؤمن كقتله".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابومسعود نے کہا : اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : مومن پر لعنت کرنا ایسا ہی ہے جیسے اسے قتل کرنا ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 591
تخریج حدیث (صحيح لغيره)