حدیث نمبر: 571
571/739 عن محمد بن زياد قال: أدركت السلف، وإنهم ليكونون في المنزل الواحد بأهاليهم، فربما نزل على بعضهم الضيف، وقدر أحدهم على النار، فيأخذها صاحب الضيف لضيفه، فيفقد القدر صاحبها. فيقول: من أخذ القدر؟ فيقول صاحب الضيف: نحن أخذناها لضيفنا. فيقول صاحب القدر: "بارك الله لكم فيها" (أو كلمة نحوها). قال بقية: وقال محمد: والخبز إذا خبزوا مثل ذلك، وليس بينهم إلا جُدُر القصب. قال بقية(1): وأدركت أنا ذلك: محمد بن زياد وأصحابه.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
محمد بن زیاد بیان کرتے ہیں کہ میں نے سلف (صحابہ) کا زمانہ پایا ہے ۔ یہ لوگ ایک ہی مکان میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے ۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ کسی کے پاس مہمان آتا اور دوسرے کی دیگچی آگ پر ہوتی ۔ صاحب مہمان وہ دیگچی اپنے مہمان کے لیے لے جاتا ۔ جس کی دیگچی ہوتی وہ اپنی دیگچی نہ پاتا تو پوچھتا دیگچی کون لے گیا ، مہمان جس کے پاس ہوتا وہ کہتا ہم نے مہمان کے لیے لے لی ہے ۔ دیگچی کا مالک کہتا : اللہ تجھے اس میں برکت دے ، یا اسی قسم کا کوئی جملہ کہہ دیتا ۔ بقیہ نے کہا: محمد کہتے تھے : روٹی پکانے میں بھی یہی ہوتا تھا ۔ اور ان دونوں گھرانوں کے مابین لکڑی کی دیواریں ہی ہوتی تھیں ۔ بقیہ کہتے ہیں : میں نے بھی یہ پایا یعنی محمد بن زیاد اور ان کے دوستوں کا یہی حال پایا ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 571
تخریج حدیث (صحيح الإسناد)