حدیث نمبر: 490
490/629 عن عمر؛ أنه كان فيما يدعو: "اللهم توفيني مع الأبرار، ولا تخلفني في الأشرار، وألحقني بالأخيار".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنی دعاؤں میں یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللهم توفيني مع الأبرار، ولا تخلفني فى الأشرار، وألحقني بالأخيار» اے اللہ ! مجھے نیکوں کے ساتھ وفات دے ، اور برے لوگوں میں باقی نہ چھوڑ اور مجھے اچھے لوگوں کے ساتھ ملا ۔
حدیث نمبر: 491
491/630 عن شقيق قال : كان عبد الله [ابن مسعود]، يكثر أن يدعو بهؤلاء الدعوات: "ربنا أصلح بيننا، واهدنا سبل الإسلام، ونجنا من الظلمات إلى النور، واصرف عنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن، وبارك لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرّياتنا، وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم، واجعلنا شاكرين لنعمتك، مثنين بها، قائلين بها، وأتممها علينا".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
شقیق نے بیان کیا : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اکثر ان کلمات کے ساتھ دعائیں کرتے تھے : «ربنا أصلح بيننا، واهدنا سبل الإسلام، ونجنا من الظلمات إلى النور، واصرف عنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن، وبارك لنا فى أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرّياتنا، وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم، واجعلنا شاكرين لنعمتك، مثنين بها، قائلين بها، وأتممها علينا» اے ہمارے رب ! ہمارے درمیان صلح فرما دے ، ہمیں اسلام کے طریقوں پر چلا ، ہمیں تاریکیوں سے نور کی طرف نجات دے ، ہم سے بے حیائیوں کو دور کر دے جو ظاہر میں ہوں یا باطن میں ہوں ، ہماری سماعتوں ، بصارتوں ، قلوب ، بیویوں ، اولادوں میں برکت عطا فرما ۔ ہماری توبہ قبول فرما ، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے ۔ ہمیں اپنی نعمتو ں کا شکر گزار بنا ، اس کی تعریف کرنے والا ، اس کو بیان کرنے والا اور اس نعمت کو ہمارے لیے مکمل فرما ۔
حدیث نمبر: 492
492/631 عن ثابت قال: كان أنس إذا دعا لأخيه يقول: "جعل الله عليه صلاة قوم أبرار، ليسوا بظلمة ولا فجار، يقومون الليل، ويصومون النهار".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب اپنے بھائی کے لیے دعا کرتے تو کہتے : «جعل الله عليه صلاة قوم أبرار، ليسوا بظلمة ولا فجار، يقومون الليل، ويصومون النهار الله» اس پر نیک لوگوں کی رحمتیں نازل کرے جو نہ ظالم ہیں اور نہ فاجر ، رات کو قیام کرتے ہیں اور دن کو روزے رکھتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 493
493/632 عن عمرو بن حريثٍ قال: "ذهبت بي أمي إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فمسح على رأسي، ودعا لي بالرزق".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عمرو بن حریث کہتے ہیں کہ میری والدہ مجھے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ا ور میرے لیے رزق کی دعا کی ۔
حدیث نمبر: 494
494/633 عن عبد الله الرومي(1)، عن أنس بن مالك قال: قيل له: إن إخوانك أتوك من البصرة- وهو يومئذ بـ: (الزاوية)- لتدعو الله لهم، قال: " اللهم اغفر لنا وارحمنا، وآتنا في الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار". فاستزادوه، فقال مثلها، فقال: "إن أوتيتم هذا، فقد أوتيتم خير الدنيا والآخرة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبداللہ رومی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا: ان سے کہا گیا کہ تمہارے بھائی بصرہ سے آئے ہیں وہ اس وقت بصرہ کے ایک کونے میں رہتے تھے تاکہ آپ ان کے لیے اللہ سے دعا کریں ، انہوں نے کہا: «اللهم اغفر لنا وارحمنا، وآتنا فى الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار". فاستزادوه، فقال مثلها، فقال: "إن أوتيتم هذا، فقد أوتيتم خير الدنيا والآخرة» اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما ، ہم پر رحم فرما ، ہمیں دنیا اور آخرت میں اچھائیاں دے اور ہمیں عذاب جہنم سے بچا ۔ لوگوں نے اس سے زیادہ دعا کی خواہش کی تو انہوں نے پھر یہی کہا: اور کہا کہ اگر تمہیں یہ مل گیا تو تمہیں دنیا اور آخرت کی خیر مل گئی ۔
حدیث نمبر: 495
495/634 عن أنس بن مالك قال: أخذ النبي صلى الله عليه وسلم غصنا فنفضه، فلم ينتفض، ثم نفضه فلم ينتفض، ثم نفضه فانتفض(2) قال: " إن سبحان الله، والحمد لله ولا إله إلا الله، ينفضن الخطايا، كما تنفض الشجرة ورقها ".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شاخ کو پکڑا اور اسے جھاڑا مگر اس کے پتے نہیں جھڑے، پھر اسے جھاڑا پھر نہ پتے جھڑے، پھر جب تیسری بار جھاڑا تو اس کے پتے جھڑ گئے فرمایا : «سبحان الله ، الحمد لله ، لا اله الاالله» خطاؤں کو اسی طرح جھاڑ دیتے ہیں جس طرح درخت اپنی پتیوں کو جھاڑ دیتا ہے ۔
حدیث نمبر: 496
496/637 [عن أنس قال: ](3) فأتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال: يا رسول الله! أي الدعاء أفضل؟ قال: "سل الله العفو والعافية في الدنيا والآخرة". ثم أتاه الغد. فقال: يا نبي الله! أي الدعاء أفضل؟ قال: "سل العفو والعافية في الدنيا والآخرة، فإذا أعطيت العافية في الدنيا والآخرة، فقد أفلحت".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا: یا رسول اللہ ! کون سی دعا سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ سے دنیا اور آخرت میں درگزر اور عافیت کا سوال کرو ۔ پھر وہ شخص دوسرے دن آیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! سب سے افضل دعا کون سی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ سے دنیا اور آخرت میں درگزر اور عافیت کا سوال کرو ، جب تمہیں دنیا اور آخرت میں عافیت مل گئی تو تم نے فلاح پالی ۔
حدیث نمبر: 497
497/638 عن أبي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " أحب الكلام إلى الله: سبحان الله لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير. لا حول ولا قوة إلا بالله، سبحان الله وبحمده".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلمات یہ ہیں : «سبحان الله لا شريك له ، له الملك وله الحمد ، وهو على كل شيء قدير . لا حول ولا قوة إلا بالله ، سبحان الله وبحمده» ۔
حدیث نمبر: 498
498/639 عن عائشة رضي الله عنها، قالت: دخل عليّ النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أصلي- وله حاجة، فأبطأت عليه- قال: " يا عائشة! عليك بجمَل الدعاء، وجوامعه". فلما انصرفت، قلت: يا رسول الله! وما جمل الدعاء وجوامعه؟ قال : " قولي : اللهم إني أسألك من الخير كله، عاجله وآجله، ما علمت منه وما لم أعلم. وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله، ما علمت وما لم أعلم. وأسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل، وأعوذ بك من النار وما قرب إليها من قول أو عمل، وأسألك مما سألك به محمد صلى الله عليه وسلم، وأعوذ بك مما تعوذ منه محمد صلى الله عليه وسلم، وما قضيت لي من قضاء فاجعل عاقتبه رشداً".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (ایک مرتبہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نماز پڑھ رہی تھی آپ کو کوئی کام تھا مجھے دیر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے عائشہ ! تم مکمل اور جامع دعا کیا کرو“ ، جب میں نماز پڑھ کر آئی تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! مکمل اور جامع دعا کیا ہے ؟ فرمایا : یہ کہو : «اللهم إني أسألك من الخير كله، عاجله وآجله، ما علمت منه وما لم أعلم. وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله، ما علمت وما لم أعلم. وأسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل، وأعوذ بك من النار وما قرب إليها من قول أو عمل، وأسألك مما سألك به محمد صلى الله عليه وسلم، وأعوذ بك مما تعوذ منه محمد صلى الله عليه وسلم، وما قضيت لي من قضاء فاجعل عاقتبه رشداً» ”اے اللہ ! میں تجھ سے ہر بھلائی کا سوال کرتی ہوں فوری ملنے والی بھی اور موخر بھلائی کا بھی جو میں جانتی ہوں اور جو میں نہیں جانتی ، اور میں ہر قسم کے شر سے تیری پناہ چاہتی ہوں دنیا کے اور آخرت کے شر سے جو میں جانتی ہوں اور جو میں نہیں جانتی میں تجھ سے جنت کا اور جنت کو قریب تر کرنے والے قول و عمل کا سوال کرتی ہوں ، اور تیری پناہ چاہتی ہوں جہنم اور جہنم سے قریب کرنے والے قول و عمل کا اور تجھ سے ان تمام باتوں کا سوال کرتی ہوں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ سے مانگا ہے اور ان تمام باتوں سے تیری پناہ چاہتی ہوں جن سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے آپ میرے حق میں جو بھی فیصلہ کریں ، اس کا انجام اچھا بنا دیں ۔“