حدیث نمبر: 338
338/436 عن عائشة: صنع النبي صلى الله عليه وسلم شيئاً، فرخص فيه، فتنزّه عنه قومٌ، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فخطب، فحمد الله، ثم قال: " ما بال أقوام يتنزهون عن الشيء أصنعه ؟ فوالله ! إني لأعلمهم بالله، وأشدهم له خشية ".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس میں رخصت دے دی ، ایک جماعت نے اس سے پرہیز کیا ، یہ بات جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، تو اللہ کی حمد بیان کی پھر فرمایا : کچھ لوگوں کا عجب حال ہے ، لوگ اس کام میں شرکت سے پرہیز کرتے ہیں جسے میں نے کیا ہے ، حالانکہ اللہ کی قسم میں ان سے زیادہ اللہ کو جانتا اور ان سے بڑھ کر اس کا خوف رکھتا ہوں ۔