حدیث نمبر: 262
262/345 (حسن) عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إذا عاد الرجل أخاه أو زاره، قال الله له " طبت وطاب ممشاك، وتبوأت منزلاً في الجنة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب کوئی شخص اپنے بھائی کی عیادت کرتا یا اس سے ملاقات کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرماتا ہے : تو بھی مبارک ہے اور تمہارا چلنا بھی مبارک ہے اور تو نے جنت میں جگہ بنا لی ۔ “
حدیث نمبر: 263
263/346 (حسن) عن أم الدرداء قالت: زارنا سلمان من المدائن إلى الشام ماشياً، وعليه كساء واندرورد، ( قال: يعني سراويل مشمرة)(1). قال ابن شوذب: رؤي سلمان وعليه كساء مطموم الرأس(2) ساقط الأذنين، يعني أنه كان أرفش(3). فقيل له : شوهّت نفسك! قال: "إن الخير خير الآخرة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا: سلمان فارسی مدائن سے شام تک چل کر ہماری ملاقات کو آئے اس حالت میں کہ قمیص اور «انْدَرْوَرْدُ» پہنی ہوئی تھی ، (یعنی ایسی شلوار جو پنڈلیوں سے اوپر تھی ۔) ابن شوذب کا کہنا ہے : سلمان کو دیکھا گیا تو ان کے اوپر قمیص تھی جس کا کالر نہیں تھا اور وہ بہت لمبی اور ڈھیلی ڈھالی تھی ۔ تو ان سے کہا گیا آپ نے اپنے آپ کو بدنما بنا رکھا ہے ۔ تو انہوں نے کہا: بیشک بھلائی تو آخرت کی ہی بھلائی ہے ۔