حدیث نمبر: 253
253/333 (صحيح) عن أبي بكرة ؛ أن رجلاً ذُكر عند النبي صلى الله عليه وسلم فأثنى عليه رجلٌ خيراً. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " ويحك قطعت عنق صاحبك، (يقوله مراراً)، إن كان أحدكم مادحاً لا محالة، فليقل: أحسِبَ كذا وكذا- إن كان يرى أنه كذلك – وحسيبه الله، ولا يزكي على الله أحداً".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا تو ایک آدمی نے اس کی اچھی تعریف کی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”افسوس تم نے تو اپنے ساتھی کی گردن ہی کاٹ دی ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بار بار کہتے تھے ۔ ”اگر تم میں سے کسی نے ضرور ہی تعریف کرنی ہو تو اسے کہنا چاہیے : میرا گمان ہے کہ فلاں بندہ ایسا ہے ، اگر اس کے خیال میں وہ ویسا ہی ہو اور اس کا حساب کرنے والا اللہ ہے اور اللہ کی بارگاہ میں کسی کی صفائی پیش نہ کرے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 253
حدیث نمبر: 254
254/334 (صحيح) عن أبي موسى قال : سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلاً يثني على رجل ويطريه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " أهْلَكْتُم- أو قطعتم ظهرَ – الرجل".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا وہ ایک آدمی کی تعریف کرتا تھا اور اس کی تعریف میں مبالغہ کرتا تھا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم نے ہلاک کر دیا۔ “ یا فرمایا : ”تم نے اپنے بھائی کی کمر توڑ دی ۔“ (یعنی تعریف کرنے سے انسان میں عملی سستی آ جاتی ہے اور بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ )
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 254
حدیث نمبر: 255
255/335(صحيح الإسناد) عن إبراهيم التيمي، عن أبيه قال: كنا جلوساً عند عُمر، فأثنى رجلٌ على رجلٍ في وجهه. فقال: " عقرت الرجل، عقرك الله ".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کی اس کے منہ پر تعریف کر دی ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے اس آدمی کو قتل کر دیا ، اللہ تجھ کو قتل کرے ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 255
حدیث نمبر: 256
265/336(صحيح الإسناد) عن عمر قال: " المدح ذبح". قال محمد: يعني إذا قبلها.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تعریف کرنا (گویا) ذبح کرنا ہے ۔ محمّد کہتے ہیں : یعنی جب وہ اسے قبول کر لے ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 256