حدیث نمبر: 193
193/256 عن أبي هريرة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم لأبي الهيثم: " هل لك خادم؟". قال: لا. قال: "فإذا أتانا سبيٌ، فأتِنا". فأتي النبي صلى الله عليه وسلم برأسين ليس معهما ثالثٌ، فأتاه أبو الهيثم. قال النبي صلى الله عليه وسلم : " اختر منهما". قال: يا رسول الله ! اختر لي. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " إن المستشار مؤتمن، خذ هذا؛ فإني رأيته يصلي، واستوص به خيراً". فقالت امرأته : ما أنت ببالغ ما قال فيه النبي صلى الله عليه وسلم إلا أن تعتقه. قال: فهو عتيق. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن الله لم يبعث نبياً ولا خليفة، إلا وله بطانتان: بطانة تأمره بالمعروف وتنهاه عن المنكر، وبطانةً لا تألوه خبالاً(1)، ومن يوق بطانة السوء فقد وُقيَ".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوالہیثم سے فرمایا : ”تمہارے پاس کوئی خادم ہے ؟“ عرض کی، نہیں ۔ فرمایا : ”جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو تم بھی آنا“ ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قیدی لائے گئے ، ان کے ساتھ تیسرا کوئی نہیں تھا ، اس وقت ابوالہیثم بھی آئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”ان دونوں میں سے ایک چن لو ۔“ عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہی میرے لئے چن دیجئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے ۔ اس کو لے جاؤ میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے ، اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت قبول کرو“ ، ابوالہیثم کی بیوی نے کہا: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی اچھی طرح رکھنے کو فرمایا ہے تم نہ رکھ سکو گے ، جب تک کہ اسے آزاد نہ کر دو ۔ ابوالہیثم نے کہا: تو یہ آزاد ہے ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ نے کوئی ایسا نبی یا اپنا جانشیں نہیں بھیجا جس کے دو قسم رازدان نہ ہوں ، ایک رازدان تو وہ ہوتے ہیں جو اسے اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں ، اور کچھ وہ رازدان ہوتے ہیں جو اسے نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کرتے ۔ اور جسے برے رازدانوں سے بچا لیا گیا اس کو حقیقت میں بچا لیا گیا ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 193
تخریج حدیث (صحيح)