حدیث نمبر: 190
190/252 عن أبي هريرة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : " أقلّ ( وفي رواية: لا تكثروا/ 253) الضحك؛ فإن كثرة الضحك تميت القلب".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کم کرو“ اور ایک رویت میں ہے : ”زیادہ نہ ہنسا کرو ، بیشک زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے ۔“
حدیث نمبر: 191
191/254 عن أبي هريرة قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم على رهطٍ من أصحابه، يضحكون ويتحدثون، فقال: " والذي نفسي بيده! لو تعلمون ما أعلم، لضحكتم قليلاً، ولبكيتم كثيراً". ثم انصرف وأبكى القوم، وأوحى الله عز وجل إليه: يا محمد! لم تُقّنّط عبادي؟ فرجع النبي صلى الله عليه وسلم فقال: " أبشروا، وسددوا، وقاربوا".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے پاس گئے جو ہنس رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنسا کرتے اور زیادہ رویا کرتے“ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو واپس چلے گئے اور لوگوں کو رلا دیا ۔ اور اللہ عزوجل نے آپ کی طرف وحی بھیجی ، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے بندوں کو مایوس کیوں کرتے ہیں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور فرمایا : ”خوش ہو جاؤ ، سیدھی راہ پر چلو اور ایک دوسرے سے قریب ہو جاؤ ۔“