حدیث نمبر: 165
165/224 عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " كل معروف صدقة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر نیکی صدقہ ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 165
تخریج حدیث (صحيح)
حدیث نمبر: 166
166/225 عن أبي موسى قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : " على كل مسلم صدقة ". قالوا: فإن لم يجد؟.قال: " فيعتملُ بيديه، فينفع نفسه، ويتصدق". قالوا: فإن لم يستطع، أو لم يفعل؟ قال: " فيعين ذا الحاجة الملهوف". قالوا: فإن لم يفعل؟ قال: " فيأمر بالخير، أو يأمر بالمعروف". قالوا: فإن لم يفعل؟ قال: " فيمسك عن الشر؛ فإنه له صدقة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر مسلمان پر صدقہ واجب ہے ۔“ لوگوں نے عرض کیا : اگر کوئی نہ پائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنے ہاتھوں سے کام کرے اور اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ کرے ۔“ لوگوں نے کہا: اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھے یا ایسا نہ کر سکے ۔ فرمایا : ”وہ شدید ضرورت مند کی مدد کرے ۔“ لوگوں نے عرض کیا : اگر یہ بھی نہ کر سکے تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو اچھی باتوں کا حکم دیا کرے“ ، یا (فرمایا ) ”پسندیدہ باتوں کا حکم دیا کرے ۔“ لوگوں نے عرض کیا : جو یہ بھی نہ کر سکے تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بری باتوں سے رک جائے ، یہ اس کے لیے صدقہ ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 166
تخریج حدیث (صحيح)
حدیث نمبر: 167
167/227 عن أبي ذر قال: قيل: يا رسول الله! ذهب أهل الدثور (1) بالأجور، يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ويتصدقون بفضول أموالهم؟ قال: " أليس قد جعل الله لكم ما تصدقون؟ إن بكل تسبيحة وتحميدة صدقة، وبضع أحدكم صدقة". قيل : في شهوته صدقة؟ قال: " لو وضع في الحرام، أليس كان عليه وزر؟ ذلك إن وضعها في الحلال كان له أجر".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا، عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! سرمایہ دار (دولت مند لوگ) سارا اجر لے گئے ، وہ نمازیں پڑھتے ہیں جیسے ہم نمازیں پڑھتے ہیں ، وہ روزے رکھتے ہیں جیسے ہم روزے رکھتے ہیں اور ( مزید یہ کہ ) وہ اپنے زائد مالوں سے صدقہ کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا اللہ نے تمہیں کچھ نہیں دیا جو تم صدقہ کر سکو ؟ بیشک ! ہر سبحان اللہ اور ہر الحمدللہ صدقہ ہے ، اور تم میں سے کسی ایک کا وظیفہ زوجیت ادا کرنا صدقہ ہے۔ “ عرض کیا گیا : کیا خواہش پوری کرنے میں بھی صدقہ ہے ؟ فرمایا : ”اگر وہ حرام کاری کرتا تو کیا اس پر گناہ نہیں تھا ؟ اسی طرح اگر وہ حلال کام کرے گا تو اس کے لیے اجر ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 167
تخریج حدیث (صحيح)