کتب حدیثصحيح الادب المفردابوابباب: جس کسی کا حمل ساقط ہو گیا
حدیث نمبر: 114
114/153 عن عبد الله [هو بن مسعود ]: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أيكم مال وارثه أحب إليه من ماله؟". قالوا يا رسول الله! ما منا من أحد إلا ماله أحب إليه من مال وارثه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اعلموا أنه ليس منكم أحدٌ إلا مال وارثه أحب إليه من ماله، مالك ما قدمت، ومال وارثك ما أخرت".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم میں سے کون ہے جس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز ہو ۔“ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ ! ہم میں سے کوئی بھی نہیں مگر اسے اس کا اپنا مال اس کے وارث کے مال سے زیادہ عزیز ہے ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جان لو ، تم میں سے کوئی ایک ا یسا نہیں مگر اس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز ہے ، تمہارا مال تو وہ ہے جو تم نے خرچ کر کے آگے بھیج دیا اور تمہارے وارث کا مال وہ ہے جو تم نے جمع کر کے پیچھے چھوڑ دیا ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 114
تخریج حدیث (صحيح)
حدیث نمبر: 115
115/154 قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما تعدون فيكم الرقوب(1) ؟ ". قالوا : الرقوب الذي لا يولد له، قال: " لا؛ ولكن الرقوب : الذي لم يقدم من ولده شيئاً".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اپنے میں سے بانجھ کسے شمار کرتے ہو ؟“ لوگوں نے عرض کیا : بانجھ وہ ہے جس کی کوئی اولاد نہ ہو ۔ فرمایا : ”نہیں ، بلکہ بانجھ وہ ہے جس نے اپنی اولاد میں سے آگے کچھ بھی نہیں بھیجا ۔ “ (یعنی اس کا کوئی بچہ بچپن میں فوت نہیں ہوا۔ )
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 115
تخریج حدیث (صحيح)
حدیث نمبر: 116
116/155 قال : وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ما تعدون فيكم الصرعة؟". قالوا : هو الذي لا تصرعه الرجالُ، فقال: " لا؛ ولكن الصرعة الذي يملك نفسه عند الغضب".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ؟ ”تم اپنے میں سے پہلوان کسے شمار کرتے ہو ؟“ لوگوں نے عرض کیا : وہ جسے کوئی شخص زیر نہ کر سکے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں ، بلکہ اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے اوپر قابو پا لے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 116
تخریج حدیث (صحيح)