کتب حدیثصحيح الادب المفردابوابباب: ہمسائے کی شکایت کرنا
حدیث نمبر: 92
92/124 (حسن صحيح) عن أبي هريرة قال : قال رجل يا رسول الله ! إن لي جاراً يؤذيني، فقال: "انطلق. فأخرج متاعك إلى الطريق". فانطلق فأخرج متاعه، فاجتمع الناس عليه، فقالوا: ما شأنك؟ قال : لي جار يؤذيني، فذكرت للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: " انطلق. فاخرج متاعك إلى الطريق" فجعلوا يقولون : اللهم! العنه، اللهمّ! أخزه، فبلغه، فأتاه فقال: ارجع إلى منزلك، فوالله ! لا أوذيك.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا: ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اﷲ ! میرا ایک ہمسایہ ہے جو مجھے دکھ پہنچاتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جاؤ ، اپنا سامان گھر سے نکال کر راستے پر رکھ دو ۔“ وہ گیا اور اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں رکھ دیا ۔ لوگ اس پر جمع ہو گئے اور پوچھنے لگے : آپ کو کیا ہوا ۔ اس نے کہا: میرا ہمسایہ مجھے دکھ پہنچاتا ہے ۔ جب میں نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جاؤ ، اور اپنا سامان نکال کر راستے پر رکھ دو ۔“ تو سب لوگ کہنے لگے : اے اللہ ! اس پر لعنت کر، اے اللہ اس کو ذلیل کر ۔ جب یہ بات ہمسایہ تک پہنچی وہ اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: اپنے گھر واپس چلے جاؤ ۔ اللہ کی قسم اب میں کبھی تمہیں دکھ نہ پہنچاؤں گا ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 92
حدیث نمبر: 93
93/125 (حسن صحيح) عن أبي جحيفة قال: شكا رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم جاره، فقال: " احمل متاعك، فضعه على الطريق، فمن مر به يلعنُه". فجعل كل من مرّ به يلعنه، فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما لقيت من الناس؟ فقال: " إن لعنة الله فوق لعنتهم". ثم قال للذي شكا : "كُفيت" أو نحوه.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے پڑوسی کی شکایت کی ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنا سامان اٹھا لواور اسے راستے پر ڈال دو ، جو وہاں سے گزرے گا اس پر لعنت کرے گا۔ “ تو جو بھی وہاں سے گزرتا تھا وہ اس پر لعنت کرتا تھا ۔ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا: لوگوں کی طرف سے مجھے کس سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ کی لعنت ان کی لعنت سے بھی بڑی ہے۔ “ (جب تم بندوں کی لعنت کو برداشت نہیں کر رہے ہو تو جو پڑوسی پڑوسی کو تکلیف دے اس پر اللہ کی لعنت ہے ) ، پھر آپ نے اس آدمی سے کہا: جس نے شکایت کی تھی، تجھے کفایت کرتی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 93