کتب حدیثصحيح الادب المفردابوابباب: بچوں کا بوسہ لینا
حدیث نمبر: 67
67/90 عن عائشة رضي الله عنها قالت: جاء أعرابى إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أتقبلون صبيانكم؟! فَـ[والله/89] ما نقبلهم! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "أو أملك لك أن نزع الله من قلبك الرحمة؟!".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: کیا آپ لوگ بچوں کا بوسہ لیتے ہیں ، اللہ کی قسم ہم لوگ تو ان کا بوسہ نہیں لیتے ۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر اللہ نے تیرے دل سے رحمت نکال دی ہے تو میں کیا کروں ؟“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 67
تخریج حدیث (صحيح)
حدیث نمبر: 68
68/91 عن أبي هريرة قال : قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم حسن بن علي، وعنده الأقرع بن حابس التميمي جالس، فقال الأقرع : إن لي عشرة من الولد ما قبلت منهم أحداً! فنظر إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: " من لا يرحم لا يرحم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا بوسہ لیا ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اقرع بن حابس تمیمی بیٹھے ہوئے تھے ۔ اقرع نے کہا: میرے دس بیٹے ہیں میں نے ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا ہے ۔ اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : ”جو رحم نہیں کرتا اس پررحم نہیں کیا جاتا ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 68
تخریج حدیث (صحيح)