حدیث نمبر: 37
37/52 (صحيح) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: "أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَ، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ، وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ. قَالَ: "لَئِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ كَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ (1) الْمَلَّ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ على ذلك".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اﷲ ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں ۔ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں ۔ وہ قطع رحمی کرتے ہیں ۔ میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں وہ مجھ سے جہالت ( لڑائی ) کرتے ہیں اور میں ان سے برداشت اور بردباری سے کام لیتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اگر بات ایسی ہی ہے جیسے تم کہہ رہے ہو تو گویا تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو ۔ اور جب تک تم اسی حالت پر قائم رہو گے اللہ کی طرف سے ان کے خلاف ایک مدد کرنے والا تمہارے ساتھ ہمیشہ موجود رہے گا ۔“
حدیث نمبر: 38
38/53 (صحيح) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ؛ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا الرَّحْمَنُ، وَأَنَا خَلَقْتُ الرَّحِمَ، وَاشْتَقَقْتُ لَهَا مِنَ اسْمِي، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، ومن قطعها بتَتّه".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اﷲ عزوجل فرماتا ہے : ”میں رحمٰن ہوں اور میں نے رحم کو پیدا کیا ہے اور میں نے اس کے لیے اپنے نام سے نام نکالا ، جو اسے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا جو اسے کاٹے گا میں اسے کاٹ دوں گا ۔“
حدیث نمبر: 39
39/54 عن أبى العنبس قال: دخلت على عبد الله بن عمرو في الوهط- يعنى: أرضاً له بالطائف - فقال: عطف لنا النبي صلى الله عليه وسلم إصبعه فقال: "الرحم شجنة(2) من الرحمن، من يصلها يصله، ومن يقطعها يقطعه، لها لسان طلق(3) ذلق(4) يوم القيامة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابوعنبس سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس ”وھط“ میں گیا یعنی وہ زمین جو ان کی طائف میں تھی تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اپنی انگلی موڑی اور فرمایا : ”رشتہ داری رحمٰن سے نکلی ہوئی ایک شاخ ہے ۔ جو اسے ملائے گا وہ (اللہ ) اسے ملائے گا اور جو اسے توڑے گا وہ اسے توڑ دے گا ۔ جس کی قیامت کے دن ایک زبان ہو گی جو تیز تیز بولے گی ۔“
حدیث نمبر: 40
40/55 عن عائشة رضي الله عنها؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "الرحم شجنة من الله، من وصلها وصله الله، ومن قطعها قطعه الله".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رحم اﷲ کے نام سے نکلی ہوئی ایک جڑ ہے جو اسے جوڑے گا اللہ اسے جوڑے گا اور جو اسے توڑے گا اللہ اسے توڑے گا ۔“