کتب حدیثصحيح الادب المفردابوابباب: والدین کی وفات کے بعد ان سے حسن سلوک کرنا
حدیث نمبر: 27
27/36 (حسن الإسناد) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " تُرْفَعُ لِلْمَيِّتِ بَعْدَ مَوْتِهِ دَرَجَتُهُ. فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ! أَيُّ شَيْءٍ هَذِهِ؟ فيقال: "ولدك استغفر لك".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے کہا: میت کے درجات اس کی موت کے بعد بھی بلند کر دئیے جاتے ہیں ۔ تو وہ پوچھتا ہے : اے میرے رب ! یہ کون سا عمل ہے جس کی وجہ سے میرے درجات بلند ہوئے ہیں ؟ تو کہا جاتا ہے : تیرے بیٹے نے تیرے لیے بخشش طلب کی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 27
تخریج حدیث (حسن الإسناد)
حدیث نمبر: 28
28/37 (صحيح الإسناد) عن محمد بن سيرين قال: كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَيْلَةً، فَقَالَ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، وَلِأُمِّي، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُمَا" قَالَ لِي مُحَمَّدٌ: فَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُ لَهُمَا؛ حَتَّى نَدْخُلَ فِي دَعْوَةِ أَبِي هريرة.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک رات ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کے پاس تھے ، تو انہوں نے کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلِأُمِّي ، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُمَا» ”اے اللہ ! میری اور میری والدہ کی ، اور جو ان دونوں کے لیے دعائے مغفرت کرے ان سب کی مغفرت کر دے ۔“ محمد نے مجھ سے کہا: ہم ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا میں شامل ہو جائیں ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 28
تخریج حدیث (صحيح الإسناد)
حدیث نمبر: 29
29/38 (صحيح) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا مَاتَ الْعَبْدُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو له".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں ، سوائے تین اعمال کے : جاری ہونے والا صدقہ ، علم کا وہ سلسلہ جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 29
تخریج حدیث (صحيح)
حدیث نمبر: 30
30/39 (صحيح) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تُوصِ، أَفَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ: "نَعَمْ".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے ، کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اﷲ ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی ۔ کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو ان کو فائدہ پہنچے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 30
تخریج حدیث (صحيح)