کتب حدیثصحيح الادب المفردابوابباب: والدین کو برا بھلا نہ کہنا
حدیث نمبر: 21
21/27 (صحيح) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتِمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ". فَقَالُوا: كَيْفَ يَشْتِمُ؟ قَالَ: "يَشْتِمُ الرَّجُلَ، فَيَشْتُمُ أباه وأمه".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ انسان اپنے والدین کو برا بھلا کہے ۔“ صحابہ نے تعجب سے پوچھا: کوئی کیسے برا بھلا کہہ سکتا ہے ؟ فرمایا : ”وہ دوسرے آدمی کو گالی دیتا ہے تو وہ (جواب میں) اس کے باپ اور اس کی ماں کو گالی دیتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 21
تخریج حدیث (صحيح)
حدیث نمبر: 22
22/28 (حسن الإسناد) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بن العاص قال:: "مِنَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يَسْتَسِبَّ الرَّجُلُ لِوَالِدِهِ".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : کبیرہ گناہوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے لیے گالیوں کا سبب بنے ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 22
تخریج حدیث (حسن الإسناد)