کتب حدیثصحيح الادب المفردابوابباب: ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنا
حدیث نمبر: 3
3/3 (حسن) عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: "أُمَّكَ" قُلْتُ: مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: "أُمَّكَ" قُلْتُ: مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: "أُمَّكَ" قُلْتُ: مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: "أباك، ثم الأقرب، فالأقرب".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
بہز بن حکیم سے مروی ہے وہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، یا رسول اﷲ ! میں کس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤں ؟ فرمایا : ”اپنی ماں کے ساتھ“ ، میں نے کہا: اس کے بعد کس کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟ فرمایا : ”اپنی ماں کے ساتھ“ ، میں نے کہا: اس کے بعد کس کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟ فرمایا : ”اپنی ماں کے ساتھ“ ، میں نے کہا: اس کے بعد کس کے ساتھ نیک سلوک کروں ؟ فرمایا : ”اپنے باپ کے ساتھ پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی ہو ، پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی ہو ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 3
تخریج حدیث (حسن)
حدیث نمبر: 4
4/4 (صحيح) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَنِي، وَخَطَبَهَا غَيْرِي، فَأَحَبَّتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَغِرْتُ عَلَيْهَا فَقَتَلْتُهَا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: أُمُّكَ حَيَّةٌ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: تُبْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَتَقَرَّبْ إِلَيْهِ مَا اسْتَطَعْتَ. [قال: عطاء بن يسار:] فَذَهَبْتُ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: لِمَ سَأَلْتَهُ عَنْ حَيَاةِ أُمِّهِ؟ فَقَالَ: "إِنِّي لَا أَعْلَمُ عَمَلًا أَقْرَبَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ بِرِّ الْوَالِدَةِ".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا ، اس نے مجھ سے شادی سے انکار کر دیا اور ایک دوسرے آدمی نے نکاح کا پیغام دیا عورت نے اس سے نکاح کرنا پسند کر لیا ۔ مجھے بڑی غیرت آئی اور میں نے اس عورت کو قتل کر دیا ۔ کیا میرے لیے کوئی توبہ ہے ؟ پوچھا: کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ اس شخص نے کہا: نہیں ، فرمایا : اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور جتنی تم طاقت رکھو اس کا قرب حاصل کرو ، عطاء بن یسار کہتے ہیں : میں گیا اور سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے اس سے یہ کیوں پوچھا تھا کہ اس کی ماں زندہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا کہ ماں کے ساتھ نیک سلوک سے زیادہ اللہ کے قریب کوئی دوسرا عمل ہو سکتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 4
تخریج حدیث (صحيح)