حدیث نمبر: 707
707/915-( حسن لغيره) عن عبد الله بن السائب: أن النبي صلى الله عليه وسلم عام الحديبية، حين ذكر عثمان بن عفان أن سهيلاً قد أرسله إليه قومه، فصالحوه، على أن يرجع عنهم هذا العام، ويخلوها لهم قابل ثلاثة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم حين أتى. فقيل: أتى سهيل(1) "سهل الله أمركم". وكان عبد الله بن السائب أدرك النبي صلى الله عليه وسلم.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے سال جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ سہیل کو اس کی قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے، تو انہوں نے آپ سے اس شرط پر صلح کی کہ آپ اس سال ان کے پاس سے واپس چلے جائیں اور اگلے سال تین دن کے لیے وہ (مکہ) آپ کے لیے خالی کر دیں گے۔ جب سہیل آیا اور کہا گیا: سہیل آ گیا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارا معاملہ آسان کر دیا۔“ اور سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا تھا۔