631/816- عن سهل قال: أتي بالمنذر بن أبي أسيد إلى النبي صلى الله عليه وسلم حين ولد، فوضعه على فخذه- وأبو أُسيد جالس- فلهى النبي صلى الله عليه وسلم بشيء بين يديه، وأمر أبو أسيد بابنه فاحتمل من فخذ النبي صلى الله عليه وسلم، فاستفاق النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "أين الصبي؟". فقال أبو أسيد: قلبناه يا رسول الله! قال: "ما اسمه؟". قال: فلان. قال: "لا، لكن اسمه المنذر"، فسماه يؤمئذٍ المنذر.سیدنا سہل (بن سعد) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: منذر بن ابی اسید کو ان کی پیدائش کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے انہیں اپنی ران پر رکھ لیا - اور ابواسید (پاس) بیٹھے ہوئے تھے - پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے کسی چیز میں مشغول ہو گئے، تو ابواسید نے اپنے بیٹے کے بارے میں حکم دیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے اٹھا لیا گیا۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم (اس مشغولیت سے) فارغ ہوئے تو فرمایا: ”بچہ کہاں ہے؟“ ابواسید نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے اسے (گھر) واپس بھیج دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اس کا نام کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس کا نام منذر ہے۔“ چنانچہ آپ نے اس دن اس کا نام منذر رکھ دیا۔