حدیث نمبر: 6
6/8 - (صحيح الإسناد.) عن طَيْسَلَةُ بْنُ مَيَّاسٍ (1) قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّجَدَاتِ (2) ، فَأَصَبْتُ ذُنُوبًا لَا أَرَاهَا إِلَّا مِنَ الْكَبَائِرِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ. قَالَ: مَا هِيَ؟ قُلْتُ: كَذَا وَكَذَا. قَالَ: لَيْسَتْ هَذِهِ مِنَ الْكَبَائِرِ، هُنَّ تِسْعٌ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ نَسَمَةٍ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَإِلْحَادٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَالَّذِي يَسْتَسْخِرُ (3) ، وَبُكَاءُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْعُقُوقِ، قَالَ: لِي ابْنُ عُمَرَ: أَتَفْرَقُ (4) النَّارَ، وَتُحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟ قُلْتُ: إي، والله! قال: أحيٌّ والداك؟ قُلْتُ: عِنْدِي أُمِّي. قَالَ: فَوَاللَّهِ! لَوْ أَلَنْتَ لَهَا الْكَلَامَ، وَأَطْعَمْتَهَا الطَّعَامَ، لَتَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَا اجْتَنَبْتَ الكبائر.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

طیسلہ بن میاس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : میں نجدہ بن عامر خارجی کے پیروکار کے ساتھ تھا ، ( یہ خارجیوں کی ایک جماعت ہے ) میں نے ایسے گناہوں کا ارتکاب کیا جن کو میں کبائر ہی خیال کرتا ہوں ، تو میں نے اس کا تذکرہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے پوچھا: وہ کون کون سے گناہ ہیں ؟ میں نے کہا: ایسے ایسے ، انہوں نے کہا: یہ کبائر نہیں ہیں ۔ وہ تو نو ہیں : اللہ کے ساتھ شریک کرنا ، کسی جان کو قتل کرنا ، جنگ سے فرار ہونا ، پاکدامن عورت پر بدکاری کی تہمت لگانا ، سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ، مسجد میں کفر (بےدینی) کا ارتکاب کرنا ، وہ آدمی جو (دین کا) مذاق اڑاتا ہے ، والدین کا ( بیٹے کی) نافرمانی کی وجہ سے رونا ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: کیا تم جہنم سے ڈرتے ہو اور چاہتے ہو جنت میں داخل ہو جاؤ؟ میں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم ۔ پوچھا: کیا تمہارے والدین زندہ ہیں ؟ میں نے کہا: میرے پاس میری والدہ ہیں ۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر تو اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ بولے : اور اس کو کھانا کھلائے تو تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے جب تک کبیرہ گناہوں سے بچو گے ۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 6
تخریج حدیث ( صحيح الإسناد)