599/774 عن جابر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين بالجعرانة(2)، والتبر في حجر بلال، وهو يقسم، فجاءه رجل فقال: اعدل؛ فإنك لا تعدل! فقال: "ويلك، فمن يعدل إلا لم أعدل؟!". قال عمر : دعني يا رسول الله أضرب عنق هذا المنافق.فقال: "إن هذا مع أصحاب له- أوفي أصحاب له- يقرؤون القرآن، لا يُجاوز تراقيهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية". قلت لسفيان: رواه قرة عن عمرو عن جابر؟ قال: لا أحفظه من عمرو. وإنما حدثناه أبو الزبير عن جابر.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ (مکہ سے سات میل کے فاصلے پر طائف کے جانب ایک جگہ کا نام ہے ) میں تھے ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں سونے کی ڈلی تھی ، اور وہ تقسیم کر رہے تھے ۔ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہا : انصاف کیجئے ۔ آپ انصاف نہیں کر رہے ۔ آپ نے فرمایا : ”افسوس تجھ پر ۔ اگر میں نے انصاف نہ کیا تو اور کون انصاف کرے گا ۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہے ۔“ یا فرمایا : ”اپنے دوستوں میں ہے ، یہ لوگ قرآن پڑھیں گے اور قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا ، وہ دین سے یوں کورے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے ۔“ میں نے سفیان سے کہا : کیا قرۃ نے یہ عمرو سے روایت کیا ہے اور عمرو نے جابر سے ۔ انہوں نے کہا : عمرو سے روایت ہونا میں یاد نہیں رکھتا ، ہمیں یہ حدیث ابوزبیر نے جابر سے روایت کر کے بیان کی ہے ۔