570/738 عن عبادة بن الوليد بن الصامت قال: خرجت مع أبي وأنا غلام شاب، فنلقى شيخاً[ عليه بردة ومعافري، وعلى غلامه بردة ومعافري]، قلت: أي عم، ما منعك أن تعطي غلامك هذه النمرة(1)، وتأخذ البردة، فتكون عليك بردتان، وعليه نمرة؟ فأقبل على أبي، فقال: آبنك هذا؟ قال: نعم. قال: فمسح على رأسي وقال: بارك الله فيك، أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "أطعموهم مما تأكلون، واكسوهم مما تكتسون". يا ابن أخي، ذهاب متاع الدنيا أحب إلي من أن يأخذ من متاع الآخرة. قلت: أي أبتاه! من هذا الرجل؟ قال: أبو اليسر [كعب] بن عمرو.عبادہ بن ولید بن صامت سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں اپنے والد کے ساتھ نکلا ، میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا ، ہماری ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی (جن پر ایک چادر اور ایک معافری کپڑا تھا ، اور ان کے غلام پر بھی ایک چادر اور ایک معافری کپڑا تھا) ، میں نے کہا : چچا جان ! آپ کو اس بات سے کس چیز نے روکا کہ آپ اپنے غلام کو یہ دھاری دار اونی چادر دے دیتے اور (اس کی) چادر لے لیتے ، تو آپ پر دو چادریں ہو جاتیں اور اس پر دھاری دار چادر ہوتی ؟ تو وہ میرے والد کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : کیا یہ آپ کا بیٹا ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : اللہ تمہیں برکت دے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ”انہیں (غلاموں کو) وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو ۔“ اے بھتیجے ! دنیا کے سامان کا چلا جانا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ وہ (غلام قیامت کے دن) میرے آخرت کے سامان میں سے کچھ لے ۔ میں نے کہا : ابا جان ! یہ آدمی کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : سیدنا ابوالیسر (کعب) بن عمرو رضی اللہ عنہ ۔